بھارتی کسانوں کا 6 فروری کوملک میں اہم شاہرایں بند کرنے کا اعلان 696

بھارتی کسانوں کا 6 فروری کوملک میں اہم شاہرایں بند کرنے کا اعلان


Kuznetsovs’k بھارتی کسانوں نے 6 فروری کوملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی تمام اہم شاہراﺅں کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے یہ اعلان مودی سرکار کی ہٹ دھرمی کے بعد کیا گیا ہے. بھارت کے متحدہ کسان فرنٹ کے مطابق ہم دنیا کو”سرکاری کسانوں“کی تعداد کے حوالے آگاہی دینا چاہتے ہیں کہ اصل کسان کون ہیں جعلی سرکاری کسان بھارتی کسانوں کی نہیں بلکہ سرکار کے ساتھ مل کر عالمی کارپویشنزکی نمائندگی کررہے ہیں .بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کسانوں نے 6 فروری کو 12 سے 3 بجے کے درمیان چکا جام احتجاج میں بھارت کی تمام ہائی ویز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے رپورٹ کے مطابق بھارتی کسانوں نے احتجاج کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ مودی سرکار نے دھرنے پر بیٹھے کسانوں کے قریبی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی معطل کر رکھی ہے تاکہ آزادی اظہار رائے کو قابو کرنے کی کوشش کی جا سکے .اسی طرح کسان راہنماﺅں ‘تنظیموں اور ان کے حامی صحافیوں‘انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی و سماجی راہنماﺅں کے ٹوئٹراکاﺅنٹس بھی مودی سرکار نے معطل کروادیئے ہیں دوسری جانب کسانوں کے احتجاج کی رپورٹنگ کرنے والے متعدد صحافیوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں. کسانوں نے مودی سرکار کی کسان دشمن قوانین کے خلاف دو ماہ سے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے بھارت میں کسانوں کے متنازع زرعی قوانین کو کالعدم قرار دینے کے لیے شروع کی گئی تحریک دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہے.بھارت میں چند روز پہلے ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران کسانوں اور بھارتی حکام کے درمیان جھڑپوں کی صورت میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے زرعی قوانین سے خوراک کے بڑے خرید کنندہ افراد کو فائدہ جبکہ کسانوں کو نقصان ہو گا. بھارتی حکومت اور کسانوں کی یونینز کے درمیان اب تک 11 بار مذاکرات کی کوششیں ہو چکی ہیں لیکن تمام کوششیں ناکام رہیں بھارتی حکومت نے مذکورہ قوانین کو 18 ماہ تک نافذ کرنے کی پیشکش کی لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کو ختم کرنے تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Parras de la Fuente

problems with buying cytotec without rx